Calorie Calculator & Tracker

’قصہ تیسرے درویش کا

تیسرے درویش نے ماچس سلگاکر سگریٹ بجھاتے ہوئے کہا۔ ’’میرے بھائیو! اور سائبانو!میرا قصہ ایک ایسے شہر سے شروع ہوتا ہے جہاں پہنچ کر مجھے محسوس ہوا تھا کہ میں ایک ایسے ہوائی جہاز میں سفر کر رہا ہوں جو پانی پر چلتا ہے۔ اس شہر کا نام کچھ عجیب سا ہے۔ مجھے اگر یاد نہیں آ رہا تو غالباً اس کا نام شہریار تھا۔ وہ کسی کا یار نہیں تھا۔ پہلے روز جب میں اسٹیشن پر اترا اور ایک بنچ پر بیٹھنے لگا تو میں نے دیکھا کہ بنچ پر لکھا تھا۔ رنگ گیلا نہیں ہے۔ اور جب میں وہاں سے بیٹھنے کے بعد اٹھاتو سارا روغن میرے کپڑوں سے چپک گیا تھا۔ میرے پاس ایک ہی بنچ پر رنگ گیلا ہے، لکھا تھا۔ وہاں کچھ لوگ اٹھے تو ان کے کپڑے بالکل صاف تھے۔ میں نے سوچا کہ یا الٰہی کیا شہر ہے! جس شہر کا پلیٹ فارم ایسا ہے۔ وہ خود کیا ہوگا۔ ابھی میں پلیٹ فارم پر ہی تھا کہ ایک آدمی پلیٹ میں سفید فارم رکھے میری طرف بڑھا اور بولا۔ اسے بھر دیجیے۔ میں نے پوچھا۔ کیوں؟ اس مرد افگن عشق نے کہا۔ یہ فارم ہر اجنبی کو اس شہر میں داخل ہونے سے پہلے بھرنا پڑتا ہے۔ بھائیو! میں نے فارم لے کر پڑھا۔ تو اس میں چند ایک سوالات درج تھے اور وہ سوالات یہ ہیں۔ -1آپ اس شہر میں کیوں آئے ہیں؟ -2راستے میں آپ کو کوئی ایسا شہر نہیں ملا‘ جہاں آپ اترسکتے؟ -3آپ شادی شدہ ہیں یا ’’کنوارے شدہ‘‘؟ -4آپ نے کبھی چوری کی ہے؟ -5کیا آپ کے باپ شادی شدہ تھے؟ -7جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کی عمر کیا تھی! وغیرہ وغیرہ۔ خانہ پری کے بعد میں نے دیکھا کہ جس دفتر میں کام ہورہا تھا‘ اس کے باہر ویٹنگ روم لکھا تھا اور جہاں لوگ انتظار کر رہے تھے ‘ اس کے باہر سامان رکھنے کا کمرہ لکھا تھا۔ باتھ روم میں شرفا کے لئے کھانا پک رہا تھا اور شرفا کے کھانے کے کمرے میں قلی نہا رہے تھے۔ بک سٹال پر میرٹھ کی قینچیاں اور الوئوں کے ہرے بھرے پٹھے بک رہے تھے۔ لوگ ریل کی پٹڑیوں پر چل رہے تھے اور ذرا دور ریل آتی دیکھ کر جمعدار پھاٹک کھول رہا تھاتاکہ لوگ آجاسکیں۔ میں ڈرتے ڈرتے شہر میں داخل ہوا۔ سڑک پر آتے ہی لڑکے نے اخبار میری طرف بڑھا دیا۔ ’’ایک آنہ میں‘بے خبر، اخبار کا ضمیمہ… کل کیا ہوگا؟ آپ مقدمہ ہاریں گے یا جیتیں گے؟ شادی ہوگی یا بیوی بھاگ جائے گی۔ زکام ہوگا یا سردرد؟ ایک آنہ میں سب کچھ پڑھیئے…‘‘ لیکن حضرات! میں نے پہلی سرخی ہی پڑھ کر اپنے دونوں کان رومال میں لپیٹ کر جیب میں ڈالے اور وہاں سے چل پڑا۔ وہ خبر کچھ اس قسم کی تھی۔ ’’مال روڈ پر دو منزلہ بس الٹ گئی۔ تیسری منزل پر بیٹھے ہوئے مسافر زخمی ہوگئے۔ صفوں والے چوک میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ ملک کے مشہور شاعر حضرت بٹھنڈہ کانپوری کے گھر میں چوری چور دروازہ لے کر بھاگ گئے۔‘‘ بھائیو! اب میں نے شہر کی سیر شروع کر دی۔ میرا خیال تھا کہ سب سے پہلے مال روڈ کی سیر کی جائے۔ چنانچہ میں نے ایک پٹھان سے پوچھا۔ ’’بھائی جان مال روڈ کدھرہے؟‘‘ اس نے منہ لٹکا کر جواب دیا۔ ’’امارے پاس مال کہاں بھائی!‘‘ میں نے سوچا جاتے پٹھان کی لنگوٹی ہی سہی۔ کم از کم اس کا نام ہی دریافت کر لیا جائے۔ ’’خان تمہارا نام کیا ہے؟‘‘ اس پر خان خانان بولا۔ ’’امارا نام خان دستر خوان ہے۔‘‘ میں نے لنگوٹی وہیں چھوڑی اور اٹھ بھاگا۔ مال روڈ پر بڑی چہل پہل تھی اور کیا زن اور کیا پیر، کیا منگل اور کیا بدھ۔ سبھی چہل قدمی میں محوِ خرام تھے اور ہر ایک کا طوطی بڑے زور سے بول رہا تھا۔ ایک آدمی نے طوطی کا منہ مائیکروفون کے سامنے کر رکھا تھا اور اس کا طوطی سب سے زیادہ بول رہا تھا۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ لوگ سڑکوں کے بیچ میں چل رہے تھے اور گاڑیاں وغیرہ فٹ پاتھ پر رواں تھیں۔ قدم قدم پر ’’آہستہ آہستہ چلیں سڑک کچی ہے‘‘ کے بورڈ لگے تھے۔ ایک آدمی کیلے کے چھلکے سڑک پر جھکے کچھ اس اہتمام سے بچھا رہا تھا کہ اگر آدمی اس پر سے پھسل پڑے تو پھر پھسلتا ہی چلا جائے۔ (مضمون ’’قصہ تیسرے درویش کا‘‘ سے مقتبس) ٭…٭…٭ –

Comments

comments