Calorie Calculator & Tracker

مکڑیاں سال بھر میں 80 کروڑ ٹن گوشت کھا جاتی ہیں، تحقیق

برن(مانیٹرنگ ڈیسک ) سوئس اور جرمن ماہرینِ حشریات کی ایک مشترکہ ٹیم نے طویل مطالعے کے بعد انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر کی مکڑیاں سال بھر میں 40 کروڑ سے 80 کروڑ ٹن کیڑے مکوڑے، مچھلیاں اور دوسرے چھوٹے جانوروں کو کھا جاتی ہیں یعنی گوشت خوری میں وہ انسانوں سے بھی آگے ہیں۔اپنی تحقیق کے پہلے مرحلے میں ان سائنسدانوں نے ایسے 65 سابقہ مطالعات کا جائزہ لیا جن میں دنیا بھر میں پائی جانے والی تمام مکڑیوں کی تعداد کے بارے میں اندازے لگائے گئے تھے۔ اس جائزے کی بنیاد پر انہوں نے تخمینہ لگایا کہ اس وقت دنیا میں موجود ساری کی ساری مکڑیوں کا مجموعی وزن 25 ملین (2 کروڑ 50 لاکھ)میٹرک ٹن جتنا ہے۔

اگلے مرحلے میں یہی تخمینہ استعمال کرتے ہوئے انہوں نے مزید یہ حساب بھی لگایا کہ روزانہ کون کون سے حشرات اور چھوٹے جانور مکڑیوں کا شکار بنتے ہیں اور ان کا جسمانی وزن کتنا ہوتا ہے۔ غرض کہ تمام اعداد و شمار اور تخمینہ جات یکجا کرنے کے بعد انہوں نے اندازہ لگایا کہ دنیا بھر کی تمام مکڑیاں مجموعی طور پر سالانہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ ٹن گوشت (کیڑے مکوڑوں، مچھلیوں اور چھوٹے جانوروں کا) کھاتی ہیں اور گوشت کی یہ مقدار اس کے مقابلے میں بھی زیادہ ہے جو تمام دنیا کے سارے انسان مل کر پورے سال میں کھاتے ہیں۔موازنے کی غرض سے بتاتے چلیں کہ دنیا بھر کے تمام انسان مجموعی طور پر لگ بھگ 395 ملین (39 کروڑ 50 لاکھ)ٹن گوشت سالانہ کھاتے ہیں جس میں زمینی اور سمندری، دونوں طرح کے جانوروں کا گوشت شامل ہے۔ وہیلوں کے بارے میں اندازہ ہے کہ یہ مجموعی طور پر سالانہ 28 کروڑ ٹن سے 50 کروڑ ٹن تک سمندری جانوروں کا گوشت ہضم کرجاتی ہیں۔ اسی طرح سمندری پرندوں کی عالمی آبادی پورے سال میں 7 کروڑ ٹن مچھلیاں اور دوسرے سمندری جانوروں کو ہڑپ کرتی ہیں۔
ریسرچ جرنل سائنس آف نیچر کے تازہ شمارے میں شائع شدہ اپنے مطالعے کی رپورٹ میں ماہرین نے یہ بھی بتایا ہے کہ مکڑیوں کا اتنی بڑی مقدار میں کیڑے مکوڑوں کو شکار کرنا اور کھانا قدرتی نظام کا حصہ ہے جس سے انسان کو براہِ راست فائدہ پہنچتا ہے کیونکہ ان میں سے بیشتر حشرات وہ ہیں جو فصلوں اور انسانی غذا کے دوسرے ذرائع کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یعنی ایسی زبردست گوشت خور ہونے کے باوجود مکڑی بہرکیف انسان دوست ہی ثابت ہوئی ہے۔ اس میں سے بھی تقریبا 95 فیصد گوشت وہ مکڑیاں کھاتی ہیں جو جنگلوں یا چراگاہوں میں رہتی ہیں۔علاوہ ازیں، مکڑیاں نہ صرف دوسرے جانوروں کا شکار کرتی ہیں بلکہ دوسرے بڑے جانوروں کا شکار بھی بنتی ہیں اور یوں قدرتی غذائی زنجیر (فوڈ چین)میں ایک اہم مقام رکھتی ہیں۔واضح رہے کہ مکڑیوں کا تعلق کیڑے مکوڑوں سے نہیں بلکہ یہ ہشت پا (آٹھ ٹانگوں والے)جانوروں کی ایک خاص جماعت سے تعلق رکھتی ہیں جس میں بچھو بھی شامل ہے۔ اسی طرح وہیل کوئی مچھلی نہیں بلکہ ممالیہ (میمل) ہے یعنی مادہ وہیل اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔

Comments

comments