Calorie Calculator & Tracker

کترینہ کیف کس کے بچے کی ماں بننے والی تھیں؟انتہائی چونکا دینے والا

ایک بھارتی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ کترینہ کیف 2014 میں رنبیر کپور کے بچے کی ماں بننے والی تھیں تاہم انتہائی خفیہ طور پر لندن کے ایک ہسپتال سے انہوں نے راتوں رات ابارشن کرایا-

ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا بالی وڈ میں بہت کم لوگوں کو پتا ہے جن میں ڈائریکٹر کرن جوہر بھی شامل ہیں تاہم ایک خاموش معاہدے کے تحت یہ راز نہیں کھولا گیا- ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ رنبیر کپور اور کترینہ کیف کے درمیان اس حد تک تعلقات قائم ہوجانا انتہائی حیرت کی بات ہے

تاہم اس سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ رنبیر کپور یہ واقعہ تو تسلیم کرتے ہیں کہ کترینہ کیف کا ابارشن ہوا تھا تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا باعث وہ نہیں بلکہ کوئی اور بالی وڈ ہیرو تھا-

یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں ممالک اپنی بیشتر ضروریات خود اپنے وسائل سے پوری کرنے پر قادر ہوں۔ کامل خود مختاری ممکن نہیں تاہم قوم کو ایسے وسائل حاصل ہوں کہ دوسرے ممالک کو جن کی ضرورت ہو۔ مثلاً پاکستان چاول، کپاس اور نمک کی پیداوار میں، فرانس زیتون کی پیداوار میں، بنگلہ دیش ٹاٹ اور چاول کی پیداوار میں، کینیا چائے اور کافی کی پیداوار میں دنیا بهر میں مشہور ہے۔ خودانحصاری کےلیے ضروری ہے کہ قوم اپنے انسانی، قدرتی اور مالی وسائل کو پیداواری شعبوں میں اس طرح استعمال کرے کہ ترقیاتی مقاصد سرعت سے حاصل ہوسکیں۔ اسی طریقے سے اقوام ترقی کرتی ہیں۔

پاکستان میں خودانحصاری سے مراد ایک عام آدمی کی نظر میں صرف یہ ہے کہ صرف ایک خاندان، ایک گروہ، ایک کمیونٹی ترقی کررہی ہے؛ باقی سب بیٹهے منہ تک رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کا، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، المیہ یہ ہے کہ صاحبانِ اقتدار بیرونی امداد اور ملکی وسائل کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے اپنے اثاثے جمع کرنے میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ بیرونی آشیرباد کی بدولت عوام کو بے روزگاری کے دلدل میں دهکیلتے ہوئے اس نہج پہ لاکهڑا کیا ہے کہ غریب عوام خودکشیاں کرنے اور بچے بیچ کر پیٹ کی آگ بجهانے پر مجبور ہیں۔ خودانحصاری ہی کی بدولت پاکستانی معاشرہ ترقی کی راہوں پر استوار کیا جاسکتا ہے کہ جب ملکی مالی و قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ملکی انسانی وسائل سے بهی استفادہ کیاجائے تاکہ کوئی شخص بےکاری کی کیفیت سے دوچار نہ ہو۔

2۔ دوسروں پر انحصار (Dependency)
یہ خودانحصاری کے برعکس صورتحال ہے۔ متعدد ترقی پذیر اور تیسری دنیا کے ممالک بشمول پاکستان اس کیفیت میں مبتلا ہیں۔ یہ ممالک معیشت کے ہر شعبے میں ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ ممالک اپنی تقدیر کا کوئی فیصلہ اپنی آزاد مرضی سے نہیں کرسکتے حالانکہ انہیں قانونی اور آئینی آزادی حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان میں حالیہ سی پیک منصوبہ اس کی بہترین مثال ہے۔ بلاشبہ سی پیک کے ذریعے ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گردش کرنے کے قوی امکانات موجود ہیں لیکن ہماری شعبہ ابلاغ عامہ کی پروفیسر کے بقول ’’چین کی عوام جس تیزی سے یہاں آتی دکهائی دے رہی ہے، لگتا ہے چند برسوں میں ملک چین کی نوآبادی بننے جارہا ہے۔‘‘ چین میں جیلوں سے قیدیوں کی سزائیں معاف کرکے انہیں پاکستان بهیجا جارہا ہے تاکہ وہ یہاں آکر محنت مزدوری کریں۔ جب افرادی قوت کی پہلے ہی وافر مقدار میں ضرورت ہمارا اپناملک پوری کررہا ہےتو پهر چین سے لوگوں کی درآمد چہ معنی دارد؟

تعمیر قوم کےلیے صرف سائنس، ٹیکنالوجی و دیگر مادی وسائل ہی درکار نہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ ثقافتی و مذہبی شناخت اور اس کا ادراک بهی ضروری ہے۔ اس سے وابستہ احساس تفاخر قوم کےلیے قوت کا درجہ رکهتا ہے۔
ملت کے ساتھ رابطہ استوار رکھ
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

ہمیں اپنی ثقافت، اپنے مذہب اور اپنی سماجی اقدار پر جب تک فخر نہیں ہوگا، ہم اپنے آپ کو ترقی یافتہ نہیں کہہ سکتے۔ آج کا دور گلوبل ولیج کا دور ہے۔ اقوام کا سرمایہ شناخت، ثقافت و مذہب ختم ہوتے دیر نہیں لگتی۔ زندہ قومیں اپنے ثقافتی، مذہبی اور قومی ورثے کی حفاظت کرکے ہی اقوام عالم میں مضبوط و مستحکم ہیں۔ چین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک سفرنامے میں پڑها تها کہ چینی قوم میں شرح تعلیم زیادہ ہونے کے سبب انگریزی زبان سے ان کی واقفیت کوئی بڑی بات نہیں۔ لیکن وہ چینی زبان میں ہی بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جس کے سبب اب دوسرے ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک بهی چینی معیشت کے پهیلاؤ کے باعث چینی زبان سیکهنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ خود ہماری جامعہ کراچی میں بهی نئے آنے والے 2017ء کے طلباء و طالبات کےلیے چینی زبان پڑهنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

4۔ عدم مرکزیت (Decentralisation)
عدم مرکزیت سے مراد یہ ہے کہ اختیارات کسی ایک خاص مرکز پر ہی مرکوز نہ ہوں بلکہ ان کا دائرہ تمام افراد پر محیط ہو۔ ترقی کےلیے ضروری ہے کہ لوگوں میں اس بات کا شعور بیدار کیا جائے کہ ہر شخص ذمہ دار ہے۔ اس سے نہ صرف ترقی کا دائرہ کار وسیع ہوگا بلکہ جرائم کی شرح میں بهی نمایاں کمی دیکهنے میں آئے گی۔ اختیارات کو بانٹنے سے ہی حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ اچهی حکمرانی کے جدید تصور میں عدم مرکزیت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس سے مختلف سطحوں میں افراد میں احساس شرکت پیدا ہوتا ہے۔ عدم مرکزیت کے تحت ہر فرد کو نچلی سطح تک ہونے والے فیصلوں میں براہ راست شرکت کا موقع ملتا ہے۔ ہم اس کا مشاہدہ ماضی میں اپنی تیسری جماعت میں پڑهتے ہوئے کرچکے ہیں۔ ٹیچر کو کسی کام سے کلاس سے باہر جانا ہوتا تو وہ کلاس کے سب سے شریر لڑکے کو اس وقت کلاس کا مانیٹر بنا کر کہہ دیتی تهیں کہ کلاس میں بالکل شور نہیں ہونا چاہیے۔ اور واقعی ان کے آنے تک کلاس میں بالکل شور نہیں ہوتا تھا کیونکہ سب سے شریر لڑکے کو تو وہ کلاس میں اہم کام سپرد کرکے گئی ہوتی تهیں۔ وہ کلاس کو خاموش کروانے میں ہی لگارہتا اور اپنی شرارتیں کچھ دیر کےلیے موقوف کردیتا تها۔

Comments

comments