Calorie Calculator & Tracker

چار وفاقی وکلا نے اسامہ کی ہلاکت کیلئے قانونی راہ ہموار کی تھی، نیویارک ٹائمز

نیویارک( آن لائن)امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اوباما انتظامیہ میں شامل چار وفاقی وکلا نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کیلئے قانونی راہ ہموار کی تھی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق مئی 2011 میں جب انتظامیہ نے اس کمپانڈ پر آپریشن کی اجازت دی کہ جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھا ، تو اس وقت اوباما انتظامیہ میں شامل چار وفاقی وکلا نے اس چھاپے کیلئے قانونی بنیاد اور وجوہات تیار کرلی تھیں، تاہم سب ایک بات پر متفق تھے کہ چھاپے کے دوران اسامہ کو گرفتار کرنے کے بجائے جان سے ماردیا جائے۔رپورٹ کے مطابق اس معاملے کو انتہائی خفیہ رکھنے کیلئے ان چاروں وکلا کو اٹارنی جنرل سمیت کسی سے مشورہ کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی، وہ جس لیپ ٹاپ پر کام کررہے تھے وہ انتہائی محفوظ نیٹ ورک پر تھے، اور وہ تجاویز انہوں نے تحریر کی تھیں ان کا تبادلہ بااعتماد کوریئر کے ذریعے کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ، ان چاروں وکلا نے چھاپے سے چند روز قبل پانچ خفیہ میموز تحریر کرلیے تھے، جس کا مقصد یہ تھا کہ اگر آپریشن میں کوئی گڑبڑ ہوگئی تو پیش کیے گئے قانونی جواز کے بارے میں وضاحت کی جاسکے۔رپورٹ کے مطابق ، ان وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے قانونی جواز اور تجزیے کے بعد ہی اوباما انتظامیہ نے نہ صرف پاکستان کی اجازت کے بغیر اسکی سرزمین پر اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا ، بلکہ اس کے بارے میں کانگریس تک تک تاخیر سے آگاہ کیا ، اور جب آپریشن ہوچکا تو، ایک اہلکار کے مطابق، ان وکلا کا کہنا تھا کہ امریکی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت ایسی مہلک کارروائی کیلئے واضح اور کافی اختیار موجود تھا۔نیویارک ٹائمز کے مطابق کچھ قانونی ماہرین نے اس فیصلے پر اعتراضات اٹھائے تھے تاہم کامیاب آپریشن کے بعد ناقدین کے منہ بند ہوگئے۔رپورٹ کے مطابق ، یہ بھی منصوبے کا حصہ تھا کہ اگر امریکی کمانڈوز اسامہ تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر اوباما انتظامیہ اس معاملے کے راز سے پردہ اٹھادیگی لیکن اگر اسامہ اس کمپانڈ میں نہ مل پاتا تو اس صورت میں یہی ظاہر کیا جانا تھا کہ ایسی کوئی کارروائی کبھی کی ہی نہیں گئی۔

Comments

comments